نئی دہلی ، 22؍نومبر (ایس او نیوز؍ایجنسی) وزیر اعظم نریندر مودی کے اعلان کے بعد کہ آئندہ پارلیمانی اجلاس میں زرعی قوانین کو واپس لیا جائے گا اور انہیں منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے تو اس پر ایک طرف ان کے اس اقدام سے کسانوں میں خوشی کی لہر ہے تو وہیں کئی گودی میڈیا کے صحافی اور کئی بالی ووڈ اسٹارس پی ایم مودی کے اس فیصلے سے ناراض نظر آئے۔ نیوز اینکر سشانت سنہا نے بھی زرعی قوانین کی واپسی پر ایک ویڈیو شیئر کی، جس میں انہوں نے پی ایم مودی پر طنز کرتے ہوئے پوچھا کہ آپ نے مایوس ہوکر قانون واپس لے لیا، لیکن ہمارا کیا؟ آپ نے ہم کو زیرو کردیا۔
زرعی قوانین کی واپسی پر سشانت سنہا کا یہ ویڈیو کافی وائرل ہو رہا ہے۔ سشانت سنہا نے اس بارے میں کہا، ’’وہ زرعی قوانین، جس کے بارے میں ایک سال میں کیا نہیں ہوا۔ نریندر مودی کہتے ہیں کہ ہم ان قوانین کو واپس لیتے ہیں۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ ہم کسانوں کو قائل نہیں کر سکے جس کی وجہ سے ہم نے قانون واپس لے لیا ہے۔
ویڈیو میں سشانت سنہا نے پی ایم مودی پر طنز کرتے ہوئے کہا، ’’وہ لوگ، جنہوں نے قانون پڑھا، اسے سمجھا اور انہیں لگا کہ چلو اب کسانوں کے لیے کچھ اچھا ہونے جار ہا ہے ۔ وہ نریندر مودی کے جھکنے کےساتھ ہی ہار گئے۔ آپ نے خود کہا تھا کہ کچھ کسانوں کو ہم سمجھا نہیںپائے تو کچھ کےلیے آپ نے سب کو قربان کردیا۔ اگر کچھ کے حساب سے ہی چلنا ہے تو جموں اور کشمیر میں 370 بھی لے آئیے۔ کیوں ہٹایاتھا۔‘‘
سشانت سنہا یہیں نہیں رکے۔ انہوں نے اپنی ویڈیو میں مزید کہا، ’کیسے سمجھانے کے لیے ناکامیاب ہوئے۔ آپ نے حال ہی میں کیا کیا؟ہم نے کیوں نہیں دکھایا؟ کیا آپ کو یوپی انتخاب میں نقصان ہو جاتا، پنجاب میں نقصان ہو جاتا۔ ابھی کون سا فائدہ ہو جائےگا۔؟ پنجاب میں بھلے ہی کانگریس کو نقصان ہو جائے، لیکن بی جے پی کو فائدہ نہیں ہونے والا۔
سشانت سنہا نے مزید کہا کہ چلو آپ مایوس ہیں کہ ان لوگوں کو بھلا نہیں چاہئے تو میں سیاسی نقصان کیوں جھلوں۔ تو ان لوگوں کو بھی جواب دیجئے جوقانون کو لوگوں کو سمجھا رہے تھے۔ آپ کے من میں آیا ، آپ مایوس ہوئےاور آپ نے کہہ دیا کہ ہم واپس لے رہے ہیں۔ ان کا کیا، جو کسانوں کا بھلا چاہ رہے تھے۔ ہمارے جیسے لوگ ،جنہیں لوگ گالی دے رہے تھے ، بارڈر پر ہماری جان کو خطرہ تھا،ہمارے لئے آپ نے کیا کیا، زیرو کر دیا۔
اب سوشل میڈیا صارفین بھی سشانت سنہا کی ویڈیو پر کافی تبصرے کر رہے ہیں۔ وکرانت سنگھ نامی صارف نے لکھا، ’’اسی لیے کہا گیا ہے کہ صحافت سیکھو، کسی کی طاقت کو آگے بڑھانا تمہارا کام نہیں ہے۔ اب رونے کا کیا فائدہ؟‘‘عبدل نامی صارف نے لکھا کہ ’اتنی مایوسی کی کیا بات ہے، تھوڑا صبر کریں۔‘